اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے پیر کو 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال کو منظم کرنے کے لیے ایک فریم ورک تیار کرنے کی درخواست پر متعلقہ وزارتوں اور حکام سے جواب طلب کر لیا ہے۔
یہ درخواست رواں ماہ کے اوائل میں درخواست گزار وقاص ناصر نے وکلاء محمد جلال حیدر اور یحییٰ فرید خواجہ کے ذریعے دائر کی تھی، جس میں اس معاملے پر قانون سازی اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے لیے عمر کی تصدیق کا ایک مؤثر نظام متعارف کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس درخواست کی سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سردار محمد سرفراز ڈوگر نے کی، جنہوں نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، وزارت اطلاعات و نشریات، وزارت داخلہ، وزارت قانون و انصاف، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو نوٹس جاری کیے۔ عدالت نے تمام فریقین کو 15 دن کے اندر اپنے جوابات جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
سماعت کے دوران وکلاء حیدر اور خواجہ عدالت میں پیش ہوئے۔ ایڈووکیٹ حیدر نے دلیل دی کہ بچوں کے زیر استعمال سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے لیے عمر کی تصدیق کا ایک مؤثر نظام متعارف کرایا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ بچوں کو سائبر بدمعاشی، آن لائن ہراسانی، نقصان دہ اور نامناسب مواد اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال سے منسلک دیگر خطرات سے بچانے کے لیے فوری قانون سازی کی ضرورت ہے۔ وکیل نے مزید کہا کہ بچوں کے بہترین مفادات کا تحفظ “ریاست کی آئینی اور قانونی ذمہ داری” ہے اور حکومت کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق مؤثر قانون سازی کرنی چاہیے۔

