کراچی اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں اسٹنگ رے (Stingray) کے بے تحاشا اور غیر پائیدار شکار پر ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (WWF) پاکستان نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کے تکنیکی مشیر، معظم خان نے خبردار کیا ہے کہ اس بڑے پیمانے پر شکار سے پاکستان کے سمندری تنوع (marine biodiversity) کو شدید اور ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ یہ صورتحال ملک کے سمندری ماحولیاتی نظام کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے، جس کے دور رس منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
معظم خان کے مطابق، اسٹنگ رے کی متعدد اقسام کو غیر قانونی اور غیر منظم طریقوں سے شکار کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی آبادی میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ اسٹنگ رے سمندری ماحولیاتی نظام میں ایک کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، جو سمندری صحت اور توازن کو برقرار رکھنے میں معاون ہیں۔ ان کی تعداد میں کمی نہ صرف سمندر کی حیاتیاتی ساخت کو متاثر کرے گی بلکہ ماہی گیری کی صنعت اور مقامی ماہی گیروں کی روزی روٹی پر بھی منفی اثرات مرتب کرے گی، کیونکہ یہ سمندری فوڈ چین کا ایک اہم حصہ ہیں۔
ماہرین ماحولیات اور تحفظِ جنگلی حیات کے اداروں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کی جانب فوری توجہ دیں اور اسٹنگ رے کے شکار کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ ان اقدامات میں سخت قوانین کا نفاذ، غیر قانونی شکار میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی، ماہی گیر برادری میں پائیدار ماہی گیری کے طریقوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا، اور سمندری تحفظ کے منصوبوں کو فروغ دینا شامل ہے۔ پاکستان کے منفرد اور قیمتی سمندری ورثے کو بچانے کے لیے اجتماعی اور مربوط کوششیں ناگزیر ہیں تاکہ مستقبل کی نسلیں بھی اس قدرتی دولت سے مستفید ہو سکیں۔
