کٹھمنڈو: نیپال میں تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، امدادی کارکنوں نے ہزاروں لاپتہ افراد تک پہنچنے کے لیے بھاری مشینری، ہیلی کاپٹر اور کھدائی کرنے والی مشینیں استعمال کرنا شروع کر دی ہیں۔ یہ سیلاب ملک کے کئی حصوں میں شدید تباہی کا باعث بنا ہے، جس سے بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔
چین، بھارت اور نیپال کی خصوصی امدادی ٹیموں نے دور دراز علاقوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے عارضی پل تعمیر کیے ہیں۔ یہ ٹیمیں مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں تاکہ متاثرین کو جلد از جلد مدد فراہم کی جا سکے اور پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔ مشکل جغرافیائی حالات کے باوجود، امدادی کارروائیاں پوری تندہی سے جاری ہیں۔
سیلاب کی شدت اور پہاڑی علاقوں کی دشواریوں کے پیش نظر، لاپتہ افراد کی تلاش کا کام انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ کئی علاقوں سے ابھی تک رابطہ بحال نہیں ہو سکا ہے۔ امدادی کارروائیاں دن رات جاری ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ جانیں بچائی جا سکیں اور متاثرہ آبادی کو خوراک، پانی اور طبی امداد فراہم کی جا سکے۔






