پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی ناز بلوچ نے ملک میں عدالتی فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے عدالتی احکامات کی پاسداری ناگزیر ہے۔ ناز بلوچ نے خاص طور پر سندھ میں بلدیاتی نظام کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واحد صوبہ ہے جہاں بلدیاتی اداروں کو درپیش چیلنجز اور عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد میں تاخیر ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بلدیاتی اداروں کو آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت بااختیار بنانے اور انہیں مالی و انتظامی خودمختاری دینے کے حوالے سے واضح احکامات جاری کر رکھے ہیں۔ ان فیصلوں کا مقصد نچلی سطح پر جمہوریت کو مضبوط کرنا اور عوام کو ان کے مسائل کے حل میں براہ راست شامل کرنا ہے۔ تاہم، سندھ میں ان عدالتی ہدایات پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے بلدیاتی ادارے اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر پا رہے ہیں، جس سے شہری اور دیہی علاقوں کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ناز بلوچ نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ عدالتی فیصلوں کا احترام کریں اور ان پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام کی مضبوطی اور عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ آئینی اور قانونی تقاضوں کو پورا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی نظام کو فعال اور بااختیار بنائے بغیر حقیقی معنوں میں عوامی خدمت ممکن نہیں، اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی تاخیر یا رکاوٹ ملک میں جمہوری اقدار کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔






