جی 20 اجلاس کے دوران، امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے چین پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ اپنی سستی برآمدات سے عالمی منڈیوں کو بھر رہا ہے، جس سے دیگر ممالک کی صنعتوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ بیان عالمی اقتصادی فورم پر چین کی تجارتی پالیسیوں کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کو اجاگر کرتا ہے۔
وزیر خزانہ بیسنٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ چین کی جانب سے سستی مصنوعات کی بڑے پیمانے پر برآمدات عالمی تجارت میں عدم توازن پیدا کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حکمت عملی سے نہ صرف ترقی پذیر ممالک کی مقامی صنعتیں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ یہ عالمی اقتصادی استحکام کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو عالمی معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب چین کی تجارتی پالیسیوں پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہو۔ جی 20 جیسے اہم فورمز پر ایسے الزامات کا سامنے آنا عالمی اقتصادی تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تجارتی جنگوں کے خدشات کو اجاگر کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا حل عالمی سطح پر تعاون اور منصفانہ تجارتی اصولوں کی پاسداری میں مضمر ہے۔

