سنگاپور میں منعقدہ ایک اہم سیکیورٹی فورم کے دوران، جاپان نے اپنے اوپر لگنے والے ‘نئی عسکریت پسندی’ کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ٹوکیو نے چین پر تیزی سے اپنی فوجی طاقت بڑھانے اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
جاپانی نمائندے کوئزومی نے فورم میں خطاب کرتے ہوئے بیجنگ کے بڑھتے ہوئے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے اور اس کے اسٹریٹجک بمبار طیاروں کی صلاحیت کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ چین کی یہ فوجی تیاریاں خطے میں طاقت کے توازن کو بگاڑ رہی ہیں اور جاپان پر ‘نئی عسکریت پسندی’ کا لیبل لگانا بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔ کوئزومی نے واضح کیا کہ جاپان کی دفاعی حکمت عملی کا مقصد صرف اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنا ہے، نہ کہ جارحیت کو فروغ دینا۔
جاپان کا یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقی ایشیا میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی اور اس کے علاقائی دعووں پر تشویش پائی جاتی ہے۔ ٹوکیو کا اصرار ہے کہ اس کی دفاعی پالیسیاں صرف اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہیں اور وہ کسی بھی صورت میں خطے میں عسکری کشیدگی کو فروغ نہیں دے رہا، بلکہ چین کی جارحانہ پالیسیوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔ یہ الزامات دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔






