کراچی: 3 ستمبر 2026 کو سندھ اسمبلی نے صوبے کی تقسیم کی کسی بھی تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا۔ یہ اہم اجلاس ایم کیو ایم پاکستان کے اراکین کے بائیکاٹ کے سائے میں منعقد ہوا، جنہوں نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔
اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے اراکین نے ‘سندھ میری ماں ہے’ کے نعرے والے بینرز اٹھا رکھے تھے، جو صوبے کی وحدت اور سالمیت کے ساتھ ان کی وابستگی کا اظہار تھا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے کی تاریخی آئینی شناخت کا دفاع کیا اور اس بات پر زور دیا کہ سندھ کی تقسیم کا کوئی بھی اقدام اس کی ثقافتی اور جغرافیائی وحدت کے خلاف ہوگا۔
دوسری جانب، ایم کیو ایم پاکستان نے پیپلز پارٹی پر حکومتی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے صوبائی تقسیم کے مسئلے کو استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کی ناقص حکمرانی اور شہری علاقوں کے مسائل کو حل کرنے میں ناکامی ہی اصل مسائل ہیں، جن سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ بحث چھیڑی گئی ہے۔ اپوزیشن نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوام کے حقیقی مسائل پر توجہ دے اور انہیں حل کرے۔
