نیپال کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ ملک کو حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد تعمیر نو کے وسیع کام کے لیے اربوں ڈالر کے فنڈز کی ضرورت ہوگی۔ ملک بھر میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس کے بعد اب ملبے کے ڈھیروں کے درمیان زندگی کو معمول پر لانے اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں۔
بی بی سی کی جنوبی ایشیا کی نمائندہ آزادہ موشیری اس وقت نیپال میں موجود ہیں، جہاں انہوں نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حکام کو تباہ شدہ علاقوں میں تعمیر نو کا کام شروع کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سیلاب نے ہزاروں گھروں، سڑکوں، پلوں اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو بہا دیا ہے، جس کے باعث متاثرین کی بحالی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
نیپالی حکومت نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مشکل گھڑی میں نیپال کی مدد کے لیے آگے بڑھے۔ تعمیر نو کے اس بڑے منصوبے کے لیے نہ صرف مالی امداد بلکہ تکنیکی مہارت اور انسانی وسائل کی بھی اشد ضرورت ہوگی تاکہ ملک کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کیا جا سکے۔

