محکمہ محنت کے انسپکٹر جنرل کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سابق وزیر محنت لوری شاویز-ڈیریمر نے محکمہ کے فنڈز کو ذاتی سفر کے لیے استعمال کیا اور ایجنسی کے اندر ہراسانی کو برداشت کیا۔ یہ رپورٹ محکمے میں بدانتظامی اور قیادت کی ناکامی کی سنگین تصویر پیش کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، لوری شاویز-ڈیریمر نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے سرکاری وسائل کو نجی مقاصد کے لیے صرف کیا۔ اس کے علاوہ، محکمے کے اندر کام کرنے والے ملازمین کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، اور سابق وزیر نے اس صورتحال کو روکنے یا اس سے نمٹنے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔ اس رویے نے محکمے میں بدانتظامی اور ایک زہریلے کام کے ماحول کو فروغ دیا۔
انسپکٹر جنرل کی یہ رپورٹ قیادت کی ناکامی اور اخلاقی اقدار کی خلاف ورزی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس سے سرکاری عہدیداروں کی جانب سے احتساب اور اخلاقی معیارات کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ عوامی اعتماد کو برقرار رکھا جا سکے اور حکومتی اداروں میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

