کرکٹ کی دنیا سے ایک اہم خبر میں، سابق پاکستانی کوچ جیسن گلیسپی نے عاقب جاوید کے کھلاڑیوں کے ساتھ سلوک کے طریقہ کار پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ گلیسپی نے خاص طور پر انگلینڈ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز کے دوران کھلاڑیوں کی برطرفیوں اور ان کے انتظام پر اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
گلیسپی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کھلاڑیوں کو ٹیم سے نکالنے کے فیصلوں اور ان کے ساتھ کیے جانے والے سلوک میں پیشہ ورانہ مہارت کا فقدان تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک کوچ کا کردار صرف ٹیم کی حکمت عملی بنانا نہیں ہوتا بلکہ کھلاڑیوں کی نفسیات کو سمجھنا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے ایک مثبت ماحول فراہم کرنا بھی ہوتا ہے۔ گلیسپی نے اس بات پر زور دیا کہ کھلاڑیوں کو غیر ضروری دباؤ میں ڈالنا یا اچانک برطرف کرنا ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا سکتا ہے۔
اس بیان سے پاکستانی کرکٹ حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹیم کی کارکردگی اور کھلاڑیوں کے انتظام پر پہلے ہی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ گلیسپی کی یہ سخت تنقید عاقب جاوید کے کوچنگ کے انداز اور کھلاڑیوں کے ساتھ ان کے تعلقات پر مزید روشنی ڈالتی ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ پاکستانی کرکٹ بورڈ اس صورتحال پر کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔





