یورپی یونین کئی سالوں تک موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کو اپنی پالیسیوں اور اقدامات کا ایک اہم ستون سمجھتا رہا ہے۔ اس نے عالمی سطح پر ماحولیاتی تحفظ کے لیے قائدانہ کردار ادا کیا اور گرین انرجی کی طرف منتقلی کے لیے پرجوش اہداف مقرر کیے۔ یورپی یونین کی یہ کوششیں اسے دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف جدوجہد میں سب سے آگے رکھتی تھیں۔
تاہم، حالیہ جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں، خاص طور پر مشرقی یورپ میں تنازعات اور عالمی اقتصادی دباؤ کے باعث، یہ ترجیح پس منظر میں چلی گئی ہے۔ یورپی یونین نے دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور صنعتی مسابقت کو فروغ دینے جیسے نئے اہداف پر توجہ مرکوز کرنا شروع کر دی، جس سے موسمیاتی ایجنڈا کچھ حد تک متاثر ہوا۔ دفاع اور صنعت کے اہداف نے ماحولیاتی خدشات کی جگہ لے لی۔
اب، جب یورپ کو بے مثال گرمی کی لہروں اور شدید موسمی واقعات کا سامنا ہے، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یورپی یونین اپنی ترجیحات کا دوبارہ جائزہ لے گا۔ موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات ناقابل تردید ہوتے جا رہے ہیں، جو پالیسی سازوں کو موسمیاتی جنگ کی فوری ضرورت پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا یورپی یونین ایک بار پھر ماحولیاتی تحفظ کو اپنی مرکزی ترجیح بنائے گا۔

