اسلام آباد: حکمران اتحاد میں شامل اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے جاری بحث پر وزیراعظم شہباز شریف کی خاموشی پر سوال اٹھایا ہے اور اس معاملے پر ان کا موقف طلب کیا ہے۔
پیپلز پارٹی نے اس سے قبل یہ موقف اختیار کیا تھا کہ کسی بھی اضافی وفاقی یونٹ کی تشکیل کے لیے آئین میں درج طریقہ کار پر عمل کرنا ضروری ہے اور اس کے لیے صوبائی اسمبلیوں کی رضامندی ناگزیر ہے۔ تاہم، بدھ کے روز پیپلز پارٹی کی زیر قیادت سندھ حکومت نے صوبائی اسمبلی سے ایک قرارداد منظور کروائی جس میں ملک کے موجودہ چار صوبوں کی مزید تقسیم کی سختی سے مخالفت کی گئی۔
دریں اثنا، مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ نے جمعہ کو ایک بار پھر کہا کہ نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے فی الحال کوئی تیاریاں جاری نہیں ہیں۔ گزشتہ ماہ پارلیمانی کارروائی کے دوران، پیپلز پارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ قومی اسمبلی میں آ کر نئے صوبوں کے معاملے پر پالیسی بیان دیں۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکرٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے بھی جمعہ کو ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم سے اس معاملے پر ان کا موقف جاننے کی خواہش ظاہر کی۔ نئے وفاقی یونٹس کی تشکیل پر بحث گزشتہ چند ماہ سے مختلف حلقوں میں جاری ہے، اگرچہ کسی بھی تجویز کے ماخذ یا خدوخال کے بارے میں کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
