ایئر انڈیا کے المناک حادثے کو ایک سال گزر چکا ہے، لیکن اس واقعے کے متاثرین کے لیے وقت جیسے تھم سا گیا ہے۔ یہ ایک سال غم، انتظار اور نہ ختم ہونے والی یادوں کا سال رہا ہے، جہاں پیاروں کو کھونے کا دکھ آج بھی اتنا ہی تازہ ہے جتنا حادثے کے دن تھا۔ یہ صرف ایک فضائی سانحہ نہیں تھا بلکہ یہ کئی خاندانوں کے لیے ایک نہ ختم ہونے والا دکھ بن گیا ہے، جہاں غم اور انتظار کی گھڑیاں آج بھی جاری ہیں۔
اس حادثے میں اپنے بیٹے کو کھونے والی ایک ماں آج بھی اس کے بارے میں ایسے بات کرتی ہے جیسے وہ زندہ ہو۔ اس کی زبان سے نکلے الفاظ میں بیٹے کی موجودگی کا احساس جھلکتا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس کا دل اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے قاصر ہے کہ اس کا بیٹا اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جو ہر اس شخص کو متاثر کرتی ہے جس نے کسی عزیز کو اچانک اور المناک طریقے سے کھویا ہو، اور یہ دکھ وقت کے ساتھ بھی کم نہیں ہوتا۔
دوسری جانب، ایک بھائی آج بھی اس حادثے کے پیچھے چھپے جوابات کا انتظار کر رہا ہے۔ یہ انتظار صرف حقائق جاننے کا نہیں بلکہ ایک طرح کی تسلی اور اختتام کا بھی ہے جو ایسے المناک واقعات کے بعد ضروری ہوتا ہے۔ جب تک تمام سوالات کے جوابات نہیں مل جاتے، متاثرین کے خاندانوں کے لیے سکون پانا مشکل رہتا ہے۔ یہ کہانی صرف ایک ماں اور ایک بھائی کی نہیں بلکہ ان تمام خاندانوں کی ہے جو آج بھی اس المناک حادثے کے زخم لیے جی رہے ہیں اور انصاف و تسلی کے منتظر ہیں۔






