جرمنی میں حالیہ دائیں بازو کی انتخابی کامیابی کے بعد سیاسی ماحول میں شدید گرما گرمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ایک طوفانی بحث کے دوران، جرمن چانسلر نے انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی (AfD) کی رہنما ایلس وائیڈل پر سخت تنقید کی ہے۔ یہ تصادم اس وقت ہوا جب ملک میں AfD کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اس کی پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
چانسلر نے ایلس وائیڈل کی ہجرتی پالیسی کو ‘نسلی صفائی’ کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی ملک میں ہنر مند کارکنوں کی آمد کو روکنے اور انہیں نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی پالیسیاں نہ صرف غیر اخلاقی ہیں بلکہ جرمنی کے سماجی اور اقتصادی ڈھانچے کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ چانسلر کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ شدید الفاظ میں ہونے والا تصادم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب AfD کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، اور اس کے دائیں بازو کے نظریات پر ملک بھر میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ چانسلر کی جانب سے اس قدر سخت بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت AfD کی پالیسیوں کو کس قدر سنگین خطرہ سمجھتی ہے، خاص طور پر ہنر مند کارکنوں کی کمی کے تناظر میں جو جرمنی کی معیشت کے لیے اہم ہیں۔



