امریکی وزارت خزانہ (ٹریژری) نے بڑھتی ہوئی شرح سود پر قابو پانے کے لیے 6 ارب ڈالر کے قرض کی دوبارہ خریداری کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ اقدام حالیہ عرصے میں بانڈز کی پیداوار میں مسلسل اضافے کے رجحان کو روکنے اور مالیاتی منڈیوں میں استحکام لانے کی کوشش کا حصہ ہے۔
تاہم، اس اعلان کے بعد مالیاتی منڈیوں کا ردعمل توقعات کے برعکس رہا۔ وزارت خزانہ کے اس منصوبے کے باوجود بانڈز کی پیداوار میں کمی آنے کے بجائے مزید اضافہ دیکھا گیا۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کار اس اقدام کی مقدار سے متاثر نہیں ہوئے۔
مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ 6 ارب ڈالر کی یہ رقم بڑھتی ہوئی شرح سود کے وسیع تر رجحان پر خاطر خواہ اثر انداز ہونے کے لیے ناکافی ہے۔ ان کے نزدیک، شرح سود کو مستحکم کرنے کے لیے ایک بڑے اور زیادہ جامع مالیاتی اقدام کی ضرورت ہے۔



