پاکستانیوں پر مہنگائی کا ایک اور بوجھ آن پڑا ہے، کیونکہ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ اس اضافے سے ملک بھر میں موٹر سواروں اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر نیا دباؤ پڑے گا، جس کے نتیجے میں عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، پیٹرول کی قیمت میں 3.40 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 367.75 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح، ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6.72 روپے فی لیٹر کا بڑا اضافہ کیا گیا ہے، اور اب یہ 393 روپے فی لیٹر کے قریب پہنچ گیا ہے۔ یہ اضافہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ مسلسل اضافہ عام آدمی کی زندگی کو مزید مشکل بنا رہا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی براہ راست اثر پڑے گا، جس سے مہنگائی کی شرح میں مزید تیزی آنے کا خدشہ ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک پہلے ہی شدید معاشی چیلنجز اور بلند افراط زر کا سامنا کر رہا ہے۔

