ہسپانیہ کی پارلیمنٹ نے مغربی صحارا کے باشندوں (صحراویوں) کو شہریت دینے کی حمایت کر دی ہے، جسے ‘ایک تاریخی دن’ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت مراکش کے ساتھ ہسپانیہ کے کشیدہ تعلقات کے تناظر میں سامنے آئی ہے، خاص طور پر سیوٹا کی سرحد عبور کرنے کے واقعے کے بعد۔ اس فیصلے سے ہسپانیہ میں مقیم ہزاروں صحراویوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
مغربی صحارا، جو کہ ایک متنازعہ علاقہ ہے، اس کے باشندے کئی دہائیوں سے اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ ہسپانیہ کا یہ اقدام صحراویوں کے لیے ایک بڑی امید کی کرن ہے جو طویل عرصے سے اپنے حقوق اور شناخت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہسپانوی پارلیمنٹ کی جانب سے شہریت کی حمایت کا مطلب یہ ہے کہ اب صحراویوں کو ہسپانیہ میں قانونی طور پر رہنے اور کام کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر شہری حقوق بھی حاصل ہو سکیں گے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ہسپانیہ اور مراکش کے تعلقات سیوٹا کی سرحد پر ہزاروں تارکین وطن کی آمد کے بعد سے خاصے کشیدہ ہیں۔ مراکش نے اس واقعے پر ہسپانیہ پر الزام لگایا تھا کہ وہ مغربی صحارا کے آزادی پسند رہنما کو علاج فراہم کر رہا ہے۔ ہسپانوی پارلیمنٹ کا یہ اقدام مراکش کے ساتھ تعلقات میں مزید پیچیدگی پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ مراکش مغربی صحارا کو اپنا حصہ سمجھتا ہے جبکہ بین الاقوامی برادری اس کے خود ارادیت کے حق کو تسلیم کرتی ہے۔ یہ پیش رفت خطے کی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔





