تہران: پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر آج تہران پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کی کوششوں کے تناظر میں اہم ملاقاتیں کریں گے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان پس پردہ سفارتی سرگرمیوں کے عروج پر ہو رہا ہے، جس کا مقصد علاقائی استحکام کو فروغ دینا ہے۔
اس اہم دورے سے قبل، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ایک ہفتے کے اندر دوسری بار ایران روانہ ہوئے ہیں۔ ان کے اس فوری اور مسلسل دورے نے خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر تیز رفتار بیک چینل سفارت کاری کے بارے میں قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنے کردار کو بروئے کار لانے کی کوشش کر رہا ہے، اور ان اعلیٰ سطحی دوروں کو اسی سلسلے کی کڑی سمجھا جا رہا ہے۔
جنرل عاصم منیر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے، اور پاکستان ایک اہم علاقائی کھلاڑی کے طور پر دونوں فریقین کے درمیان مفاہمت کی فضا پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد علاقائی امن کو فروغ دینا، کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملیوں پر غور کرنا اور پاکستان کے سفارتی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں استحکام لانا ہے۔



