ڈاکٹر نوویرا خالد لکھتی ہیں: ہسپتال میں اپنے صبح کے راؤنڈ کے دوران اچانک ایک آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔ “ماما، ایک دن میرے بال لمبے ہو جائیں گے، کیا آپ میرے لیے خوبصورت ہیئر پنز لائیں گی؟” میرے قریب ہی ننھی سائرہ بستر پر لیٹی ہوئی تھی۔ اس کا چہرہ زرد تھا، اور اس کے بائیں ہاتھ میں آئی وی لائن لگی ہوئی تھی۔
سائرہ کی یہ معصوم خواہش، جو اس کی بیماری کی سنگین حقیقت سے بالکل متضاد تھی، میرے دل کو چھو گئی۔ اس کی آنکھوں میں ایک چمک تھی جو اس کے کمزور جسم کے باوجود امید اور زندگی کی خواہش کو ظاہر کر رہی تھی۔ یہ صرف سائرہ کی کہانی نہیں، بلکہ ایسے لاتعداد ننھے سپاہیوں کی داستان ہے جو ہسپتالوں کے بستروں پر اپنی زندگی کی سب سے بڑی جنگ لڑ رہے ہیں۔
یہ بچے، اپنی چھوٹی عمر اور کمزور جسم کے باوجود، بیماری کے خلاف ایک عظیم معرکے میں مصروف ہیں۔ ان کی ہمت، صبر اور زندگی کی طرف مثبت رویہ ہم بڑوں کے لیے بھی ایک سبق ہے۔ ڈاکٹر نوویرا خالد کا یہ مشاہدہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کس طرح معصومیت اور امید، مشکل ترین حالات میں بھی روشنی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ یہ ننھے مجاہد ہمیں سکھاتے ہیں کہ زندگی کی جنگ میں سب سے بڑا ہتھیار حوصلہ اور مثبت سوچ ہے۔





