ایران کی ہرمز اتھارٹی نے ایک اہم دعویٰ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کی ایک بندرگاہ کے جنوب میں واقع سمندری پانیوں پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔ یہ دعویٰ خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے، جہاں سمندری تحفظ اور علاقائی خودمختاری کے مسائل پہلے ہی حساس نوعیت کے ہیں۔
ہرمز اتھارٹی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی اہمیت عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی بندرگاہیں، خصوصاً وہ جو عالمی شپنگ روٹس پر واقع ہیں، خطے کی اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز ہیں۔ ان کے قریب کسی بھی قسم کا کنٹرول کا دعویٰ بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بن سکتا ہے اور علاقائی ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
اس دعوے کے بعد علاقائی ممالک اور بین الاقوامی طاقتوں کی جانب سے ردعمل متوقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دعوے سمندری حدود کے تنازعات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں اور خطے میں بحری نقل و حرکت کی آزادی پر سوالات اٹھا سکتے ہیں۔ صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جا سکے اور علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں کی جا سکیں۔



