اسلام آباد – پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مختلف حصوں میں ایندھن کی معمول کی فراہمی کی صورتحال تیزی سے ایک بڑے بحران میں تبدیل ہو گئی ہے۔ پیٹرول کی شدید قلت کے باعث قیمتیں تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہیں، اور بعض اضلاع میں یہ 500 روپے فی لیٹر تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
کوئٹہ جیسے بڑے شہروں میں، زندگی کی رفتار سست پڑ گئی ہے اور معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے ہیں۔ چند فعال پیٹرول پمپس کے باہر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آ رہی ہیں، جہاں شہریوں کو ایندھن کے حصول کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی پیٹرول پمپس تو مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
اس بحران نے نہ صرف عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے بلکہ نقل و حمل اور مقامی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ ایندھن کی عدم دستیابی کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ بھی محدود ہو گئی ہے، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومتی سطح پر اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ صوبے میں ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور شہریوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔





