پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر تمام اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے آپشن پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیراطلاعات نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس نظام کے ساتھ وہ چلنا چاہتے ہیں، اس میں ان کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔
وزیراطلاعات نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی قیادت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ موجودہ سیاسی ڈھانچہ اور حکومتی نظام ان کے سیاسی مقاصد اور عوامی مینڈیٹ کی ترجمانی کے لیے موزوں نہیں رہا۔ انہوں نے زور دیا کہ پارٹی کے اندر ایک مضبوط سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ اس نظام کا حصہ بنے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں جہاں ان کی آواز کو سنا نہ جائے اور ان کے مینڈیٹ کا احترام نہ کیا جائے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے اسمبلیوں سے استعفوں کا یہ ممکنہ فیصلہ ملک میں ایک نئے سیاسی بحران کو جنم دے سکتا ہے اور حکومت پر نئے انتخابات کرانے کے لیے دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، اس آپشن پر حتمی فیصلہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی مشاورت اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کے بعد کیا جائے گا، تاہم یہ واضح ہے کہ پی ٹی آئی موجودہ صورتحال سے مطمئن نہیں اور ایک بڑی تبدیلی کی خواہاں ہے۔





