امریکہ کے جنوبی علاقوں میں ایک گوشت خور کیڑے ‘اسکرو ورم’ کے پھیلاؤ نے حکام اور عوام میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ یہ کیڑا، جو جانوروں کے گوشت کو کھا کر انہیں شدید نقصان پہنچاتا ہے، 1966 کے بعد پہلی بار امریکی سرزمین پر پایا گیا ہے۔ اس کی دوبارہ موجودگی کو ایک سنگین خطرہ سمجھا جا رہا ہے جو مویشیوں اور جنگلی حیات کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
اس خطرناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے امریکی حکام نے ایک منفرد اور جدید حکمت عملی اپنائی ہے۔ اس منصوبے کے تحت، لاکھوں کی تعداد میں بانجھ نر اسکرو ورم مکھیوں کو متاثرہ علاقوں میں چھوڑا جائے گا۔ یہ بانجھ مکھیاں مادہ مکھیوں کے ساتھ ملاپ کریں گی، لیکن انڈے نہیں دے پائیں گی، جس سے کیڑوں کی آبادی میں کمی آئے گی۔ اس کے علاوہ، تربیت یافتہ کتوں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے جو اپنی سونگھنے کی حس سے متاثرہ جانوروں اور کیڑے کے لاروا کی نشاندہی کریں گے تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکرو ورم کا پھیلاؤ نہ صرف زرعی معیشت کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ جنگلی حیات کے ماحولیاتی نظام کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس کیڑے کے لاروا جانوروں کے کھلے زخموں میں داخل ہو کر اندرونی طور پر گوشت کھانا شروع کر دیتے ہیں، جس سے شدید تکلیف اور بالآخر موت واقع ہو سکتی ہے۔ امریکی حکومت اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے تاکہ اس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور جانوروں کو اس مہلک کیڑے سے بچایا جا سکے۔





