یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو ایک کھلے خط کے ذریعے براہ راست مذاکرات کی پیشکش کی ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔ صدر زیلنسکی کا موقف ہے کہ صرف دونوں رہنماؤں کے درمیان ‘براہ راست رابطہ’ ہی اس تنازعے کو حل کر سکتا ہے اور یوکرین میں امن کی بحالی کی واحد راہ ہے۔
اپنے خط میں، زیلنسکی نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری، خاص طور پر امریکہ، اس وقت اپنی توجہ ایران جیسے دیگر علاقائی مسائل پر مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ایسی صورتحال میں، ان کا کہنا تھا کہ دونوں متحارب فریقین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ خود اپنے مسائل کا حل تلاش کریں اور براہ راست بات چیت کے ذریعے جنگ بندی اور پائیدار امن کی جانب بڑھیں۔
یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرین میں جنگ شدت اختیار کر چکی ہے اور بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ زیلنسکی کی جانب سے یہ اقدام جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نئی سفارتی کوشش کی عکاسی کرتا ہے، جس میں وہ ذاتی طور پر پوتن سے بات چیت کے ذریعے موجودہ تعطل کو توڑنے اور یوکرین کے عوام کے لیے امن کی امید رکھتے ہیں۔







