فرانس کے کئی شہروں میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور تعلیمی اداروں کی ابتر صورتحال کے خلاف ہزاروں افراد نے پرامن مظاہرے کیے۔ تاہم، ان پرامن ریلیوں کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف حصوں میں ہنگامے اور فسادات بھی پھوٹ پڑے، جس سے احتجاج کا دن بے امنی کی نذر ہو گیا۔
یہ احتجاجات، جو ابتدائی طور پر طلبہ کی جانب سے شروع کیے گئے تھے، اب قومی سطح پر پھیل چکے ہیں اور ایک ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ شہریوں کو درپیش معاشی مشکلات اور تعلیمی نظام میں موجود خامیوں کو فوری طور پر دور کرے۔ پرامن مارچوں میں دسیوں ہزار افراد نے شرکت کی، جو اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کر رہے تھے۔
احتجاج کے اس دن نے فرانس کے کئی شہروں میں معمولات زندگی کو متاثر کیا، جہاں پرامن مظاہرین اپنے مطالبات لے کر سڑکوں پر نکلے، وہیں کچھ علاقوں میں ہونے والے ہنگاموں نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا۔ حکام نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی نفری تعینات کی ہے تاکہ مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔


