ایک بزنس سکول کے استاد نے ایک حیران کن موقف اختیار کیا ہے جس نے تعلیمی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بزنس سکولوں کو بند کر دینا چاہیے کیونکہ وہ اپنے بنیادی مقصد میں ناکام ہو رہے ہیں اور طلباء کو وہ مہارت فراہم نہیں کر پا رہے جس کی انہیں حقیقی دنیا میں ضرورت ہے۔
استاد کے مطابق، جب طلباء ان اداروں میں داخلہ لیتے ہیں تو وہ نیک ارادوں کے ساتھ آتے ہیں۔ ان کے عزائم بلند ہوتے ہیں؛ وہ دنیا میں مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہیں، کامیاب کاروباری بننا چاہتے ہیں، اور معاشرے میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بزنس سکول انہیں وہ علم اور مہارت فراہم کریں گے جو انہیں اپنے خوابوں کی تعبیر میں مدد دے گی۔
تاہم، استاد کا دعویٰ ہے کہ یہ طلباء جب ان سکولوں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں تو ان کے پاس ‘ناقص مہارت’ ہوتی ہے۔ یہ مہارت انہیں حقیقی دنیا کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں کرتی اور اکثر انہیں ایسے نظریات اور طریقوں سے لیس کرتی ہے جو عملی میدان میں کارآمد ثابت نہیں ہوتے۔ یہ صورتحال نہ صرف طلباء کے مستقبل کے لیے تشویشناک ہے بلکہ کاروباری دنیا اور معاشرے کے لیے بھی ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے کہ کیا موجودہ بزنس ایجوکیشن کا ماڈل واقعی مؤثر ہے یا اس میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔




