بھارت میں حالیہ واقعات، جہاں ریاست نے انٹرنیٹ کی بندش کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے اور اقلیتوں کے خلاف ‘کیڑے مکوڑے’ جیسے توہین آمیز الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے، سرحد پار پاکستان میں رہنے والوں کے لیے ایک عجیب سی آشنائی کا احساس دلاتے ہیں۔ یہ صورتحال، جس میں ریاستی جبر اور عوامی آواز کو دبانے کی کوششیں شامل ہیں، جنوبی ایشیا کے خطے میں طاقت کے غلط استعمال کی ایک تکلیف دہ یاد دہانی ہے۔
انٹرنیٹ کی بندش، جو اکثر احتجاجی مظاہروں یا سیاسی بے چینی کے دوران نافذ کی جاتی ہے، ریاستوں کے لیے معلومات کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے اور اختلاف رائے کو دبانے کا ایک آزمودہ طریقہ بن چکی ہے۔ پاکستان میں بھی ہم نے ماضی میں ایسے ہی حالات کا سامنا کیا ہے جہاں ریاست نے معلومات تک رسائی کو محدود کرنے اور عوامی احتجاج کو کچلنے کے لیے اسی طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کس طرح جنوبی ایشیا میں ریاستیں آزادی اظہار اور جمہوری اقدار کو پامال کرنے کے لیے ایک جیسے طریقے استعمال کرتی ہیں، جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔
جب ریاستی مشینری اس حد تک گر جاتی ہے کہ وہ اپنے ہی شہریوں کو ‘کیڑے مکوڑے’ جیسے القابات سے پکارتی ہے اور ان کی آواز کو دبانے کے لیے انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولت کو منقطع کر دیتی ہے، تو یہ ایک تلخ حقیقت بن جاتی ہے۔ اصل مذاق ریاست پر نہیں بلکہ ان لوگوں پر ہوتا ہے جو اس جبر کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف بھارت بلکہ پورے خطے کے لیے ایک تشویشناک پیغام ہے کہ کس طرح طاقت کے نشے میں چور ریاستیں اپنے ہی عوام کے خلاف کھڑی ہو جاتی ہیں، اور سرحدوں کے پار بھی اس کی گونج سنائی دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جبر کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور اس کے نتائج پورے خطے کو بھگتنا پڑتے ہیں۔



