اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام (WFP) نے غزہ کی پٹی میں تقریباً 5 لاکھ فلسطینیوں کے لیے اپنی امداد میں نمایاں کٹوتی کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام فنڈز کی شدید کمی کے باعث اٹھایا گیا ہے، جس سے پہلے ہی انسانی بحران سے دوچار اس علاقے میں لاکھوں افراد کی غذائی تحفظ کو مزید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
WFP کے مطابق، یہ کٹوتی فوری طور پر نافذ العمل ہو گی اور اس سے متاثرہ افراد کو ملنے والی خوراک کی مقدار اور نوعیت دونوں متاثر ہوں گی۔ غزہ، جو کہ طویل عرصے سے اسرائیلی ناکہ بندی اور اندرونی تنازعات کا شکار ہے، پہلے ہی دنیا کے سب سے زیادہ غربت زدہ اور غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنے والے علاقوں میں سے ایک ہے۔ اس نئی کٹوتی سے بچوں، خواتین اور بزرگوں سمیت کمزور طبقے پر سب سے زیادہ منفی اثر پڑے گا۔
عالمی خوراک پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ اگر فنڈز کی کمی کو جلد پورا نہ کیا گیا تو امداد میں مزید کٹوتیوں کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں غزہ میں بھوک اور غذائی قلت کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ ادارے نے بین الاقوامی برادری سے فوری طور پر مالی امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ لاکھوں بے سہارا فلسطینیوں کو درپیش اس سنگین بحران سے نمٹا جا سکے۔ یہ صورتحال عالمی سطح پر انسانی ہمدردی کے اداروں کے لیے بڑھتے ہوئے چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے۔




