سینیٹ میں قائد حزب اختلاف، علامہ راجہ ناصر عباس نے خبردار کیا ہے کہ جب سیاستدان اپنے حقیقی کردار سے ہٹ کر کٹھ پُتلیاں بن جائیں تو ملک و قوم کی تباہی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ انہوں نے عوام کے منتخب نمائندوں کو نظر انداز کرنے اور ان کی جگہ ایسے افراد کو مسلط کرنے پر شدید تنقید کی جنہیں عوامی مینڈیٹ حاصل نہیں ہے۔
علامہ ناصر عباس نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جمہوری نظام کی بنیاد عوام کی رائے اور ان کے منتخب کردہ نمائندوں پر قائم ہوتی ہے۔ جب اس بنیادی اصول کو پامال کیا جاتا ہے اور عوامی مینڈیٹ کو پس پشت ڈال کر غیر منتخب یا غیر مقبول شخصیات کو اقتدار پر بٹھایا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف سیاسی عدم استحکام جنم لیتا ہے بلکہ ریاستی ڈھانچہ بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے اقدامات ملک کو تباہی کے دہانے پر لے جاتے ہیں اور عوام میں شدید مایوسی کا باعث بنتے ہیں۔
قائد حزب اختلاف نے مطالبہ کیا کہ ملک میں حقیقی جمہوریت کو فروغ دیا جائے اور عوامی فیصلوں کا احترام یقینی بنایا جائے۔ علامہ ناصر عباس نے واضح کیا کہ جب تک سیاستدان اپنے حقیقی کردار سے انحراف کرتے ہوئے کسی اور کے اشاروں پر ناچتے رہیں گے، ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس صورتحال کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور قوم کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔






