سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز کرتے ہوئے، مشال یوسفزئی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت دراصل اس کے بانی چیئرمین کے لیے ریلیف حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ ان کے اس بیان نے ملک کی سیاسی صورتحال میں ایک نیا موڑ پیدا کر دیا ہے، جہاں آئینی ترامیم اور سیاسی سودے بازی کے تعلق پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
مشال یوسفزئی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت بظاہر اس آئینی ترمیم کو ایک ایسے سیاسی سودے بازی کے آلے کے طور پر استعمال کر رہی ہے جس کے ذریعے وہ اپنے بانی کو درپیش قانونی چیلنجز اور قید سے نجات دلا سکے۔ ان کے مطابق، یہ حمایت کسی نظریاتی بنیاد پر نہیں بلکہ ذاتی مفادات کے حصول کے لیے کی جا رہی ہے، اور اس کا مقصد بانی چیئرمین کی رہائی یا ان کے خلاف مقدمات میں نرمی حاصل کرنا ہے۔
اس دعوے نے سیاسی تجزیہ کاروں اور عوام میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا آئینی ترامیم کو سیاسی سودے بازی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو اس کے ملک کے آئینی ڈھانچے اور جمہوری اقدار پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس بیان پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم توقع ہے کہ یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید سیاسی گرما گرمی کا باعث بنے گا۔




