فرانس میں جاری حالیہ مظاہروں نے ملک کے سیاسی منظرنامے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ صدر ایمانوئل میکرون کی اعتدال پسند حکومت کو ان مظاہروں کے باعث شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ احتجاج نہ صرف حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عوامی ناراضی کا اظہار ہیں بلکہ انہوں نے فرانسیسی معاشرے میں گہری تقسیم کو بھی جنم دیا ہے، جس کے دور رس نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
ان مظاہروں نے فرانسیسی عوام کو مزید پولرائز کر دیا ہے، جہاں مختلف طبقوں کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر نوجوان طبقہ، جو پہلے ہی معاشی اور سماجی مسائل سے دوچار تھا، اب ایک اہم اور ناراض انتخابی قوت بن کر ابھرا ہے۔ ان نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر آ کر اپنے مطالبات پیش کیے ہیں اور وہ آئندہ انتخابات میں اپنی ناراضی کا اظہار ووٹ کے ذریعے کرنے کے لیے پرعزم نظر آتے ہیں۔ ان کا یہ غصہ میکرون کی حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ان مظاہروں کے طویل مدتی اثرات میکرون کی اعتدال پسند جماعتوں کے لیے آئندہ انتخابات میں سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔ نوجوانوں کی یہ ناراض انتخابی بلاک میکرون کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے، اور یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا انتخابات سے قبل ان کی اعتدال پسند سیاست کا کھیل ختم ہو چکا ہے؟ حکومت کو اب نہ صرف عوامی غصے کو ٹھنڈا کرنا ہے بلکہ معاشرتی تقسیم کو کم کرنے اور نوجوانوں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔




