پاکستان کی نئی آٹو پالیسی: 2000 سی سی سے زائد گاڑیوں پر 10 فیصد اضافی ٹیکس کی تجویز

اسلام آباد: پاکستان کی نئی مجوزہ آٹو پالیسی 2026-31 کے تحت گاڑیوں کے خریداروں پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ حکومت نے 2000 سی سی سے زائد انجن کی صلاحیت والی گاڑیوں پر 10 فیصد آٹوموٹیو ڈویلپمنٹ لیوی (ADL) اور 1000 سی سی سے زائد گاڑیوں پر 2 فیصد چارج عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ اقدام ملک میں گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، جس سے خاص طور پر بڑی گاڑیوں کے خریدار متاثر ہوں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے منظور کردہ اس مسودہ پالیسی میں یہ لیوی درآمد شدہ اور مقامی طور پر تیار کردہ دونوں قسم کی گاڑیوں پر لاگو کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد مقامی آٹو انڈسٹری کو فروغ دینا اور حکومتی ریونیو میں اضافہ کرنا بتایا جا رہا ہے، تاہم اس سے صارفین پر براہ راست اثر پڑے گا۔ یہ نئی پالیسی گاڑیوں کی صنعت میں ایک اہم تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اس نئی پالیسی کے نفاذ سے خاص طور پر بڑی انجن صلاحیت والی گاڑیوں کی خریداری مزید مہنگی ہو جائے گی، جس سے ان گاڑیوں کی طلب پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ آٹو انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایک طرف تو حکومتی خزانے کو تقویت دے گا لیکن دوسری طرف صارفین کی قوت خرید کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں چھوٹی اور کم انجن صلاحیت والی گاڑیوں کی طرف رجحان بڑھنے کا امکان ہے۔

  • Related Posts

    میر رضا قتل کیس: عدالتی کمیشن نے پولیس تحقیقات کو ‘سنگین ناکامی’ قرار دے دیا

    کراچی: ایک عدالتی کمیشن نے مرحوم تاجر میر رضا علی کے قتل کیس کی پولیس تحقیقات میں “سنگین ناکامی” کا انکشاف کیا ہے، جس میں تفتیشی طریقہ کار کی خلاف…

    اسلام آباد پولیس: لائبہ اعجاز خودکشی کیس کا ملزم ‘ساتھیوں’ کی فائرنگ سے ہلاک

    اسلام آباد پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ لائبہ اعجاز خودکشی کیس میں نامزد ایک اہم ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا ہے۔ پولیس کے مطابق،…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔