کراچی: ایک عدالتی کمیشن نے مرحوم تاجر میر رضا علی کے قتل کیس کی پولیس تحقیقات میں “سنگین ناکامی” کا انکشاف کیا ہے، جس میں تفتیشی طریقہ کار کی خلاف ورزیوں اور افسران کی لاپرواہی کو نمایاں کیا گیا ہے۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پولیس نے مطلوبہ تفتیشی طریقہ کار کی خلاف ورزی کی اور کیس کو حل کرنے میں سنگین غفلت کا مظاہرہ کیا۔
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں پولیس افسران کی جانب سے “لاپرواہی” اور “تنگ نظری” کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، تفتیشی ٹیم نے کیس کی گہرائی میں جانے کی بجائے مخصوص پہلوؤں پر توجہ مرکوز رکھی، جس سے دیگر اہم شواہد اور امکانات کو نظر انداز کیا گیا۔ یہ تنگ نظری تفتیش کو صحیح سمت میں لے جانے میں ناکامی کا باعث بنی اور کیس کی پیچیدگیوں کو حل کرنے میں رکاوٹ بنی۔
عدالتی کمیشن نے اس معاملے میں ممکنہ پولیس کور اپ کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کی سفارش کی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے تفتیشی طریقہ کار کی خلاف ورزی اور غفلت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ شاید حقائق کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہو۔ اس سفارش کا مقصد نہ صرف میر رضا علی کے قتل کے انصاف کو یقینی بنانا ہے بلکہ پولیس کے تفتیشی معیار کو بہتر بنانا اور عوام کا اعتماد بحال کرنا بھی ہے۔
مرحوم تاجر میر رضا علی کی ایک ویڈیو بھی اس کیس کا حصہ رہی ہے، جس میں ان کے بیانات کو تفتیش کے دوران نظر انداز کیا گیا یا ان پر مناسب توجہ نہیں دی گئی۔ یہ کیس اب ایک بار پھر روشنی میں آیا ہے اور توقع ہے کہ اعلیٰ سطحی انکوائری سے حقائق سامنے آئیں گے اور انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
