پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے ایک مبینہ آڈیو لیک کے معاملے پر معروف قانون دان سلمان اکرم راجا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ تنقید پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے ایک اہم اجلاس کے دوران سامنے آئی جہاں گنڈاپور نے پارٹی رہنماؤں کے سامنے اپنے تحفظات اور موقف کا کھل کر اظہار کیا۔
ذرائع کے مطابق، علی امین گنڈاپور نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ مبینہ آڈیو لیک نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے اور اس سے بعض افراد کے کردار پر شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے سلمان اکرم راجا کا نام لیتے ہوئے ان کے موقف اور حالیہ واقعات کے تناظر میں ان کے کردار پر سوال اٹھائے۔ گنڈاپور نے زور دیا کہ ایسے معاملات میں مکمل شفافیت انتہائی ضروری ہے تاکہ عوام کا عدالتی نظام اور دیگر اداروں پر اعتماد برقرار رہ سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے لیکس ملک میں سیاسی عدم استحکام کو بڑھاوا دیتے ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی ایسے تمام مبینہ لیکس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہے جو کسی بھی شخصیت کی ساکھ یا ملک کے اداروں کی شفافیت پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھاتی رہے گی اور کسی بھی قسم کی غیر آئینی یا غیر قانونی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس موقع پر دیگر پارٹی رہنماؤں نے بھی گنڈاپور کے موقف کی تائید کی اور معاملے کی گہرائی سے چھان بین کا مطالبہ کیا۔



