اسلام آباد: پاکستان کی سینیٹ کی ایک اہم کمیٹی نے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) کے نتائج میں مبینہ بے ضابطگیوں اور شکایات کے پیش نظر نئی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ ملک بھر سے طلباء اور والدین کی جانب سے شدید احتجاج اور شفافیت کے مطالبات کے بعد سامنے آیا ہے۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کی گہرائی سے چھان بین کریں اور تمام حقائق کو عوام کے سامنے لائیں۔
قومی صحت خدمات، ضوابط اور رابطہ کی سینیٹ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ایم ڈی کیٹ کے حالیہ نتائج پر تفصیلی غور کیا گیا۔ کمیٹی کے اراکین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا انحصار اس امتحان پر ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی ناقابل قبول ہے۔ طلباء نے سوشل میڈیا اور سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے نمبروں میں تضاد ہے اور امتحان کے طریقہ کار میں شفافیت کا فقدان تھا۔ کمیٹی نے ان شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے ایک آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
اس نئی تحقیقات کا مقصد ایم ڈی کیٹ کے انعقاد، نتائج کی تیاری اور ان کی اشاعت میں ہونے والی ممکنہ خامیوں اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔ کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس فیصلے سے ان ہزاروں طلباء میں امید کی کرن پیدا ہوئی ہے جو اپنے مستقبل کے حوالے سے پریشان تھے۔ توقع ہے کہ تحقیقاتی ٹیم جلد ہی اپنی رپورٹ پیش کرے گی، جس کے بعد مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
ایم ڈی کیٹ کا امتحان ہر سال ہزاروں طلباء کے لیے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کا واحد راستہ ہوتا ہے۔ ماضی میں بھی اس امتحان کے انعقاد اور نتائج پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ سینیٹ کمیٹی کا یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت اور قانون ساز ادارے اس اہم تعلیمی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

