چین نے جمعہ کو تبت میں آنے والے ایک شدید زلزلے کے بعد “بھرپور” امدادی کارروائیوں کا حکم دیا ہے، جس میں کم از کم 16 افراد ہلاک، درجنوں زخمی اور سینکڑوں مکانات منہدم ہو گئے ہیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق، جمعرات کی شام آنے والے 7.0 شدت کے اس زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ امدادی کارکنوں کی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ وہ تاریکی میں ٹارچ کی روشنی میں 300 سے زائد منہدم شدہ مکانات کے ملبے میں پھنسے افراد کو تلاش کر رہے ہیں۔
سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی (CCTV) پر نشر ہونے والی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی ریستورانوں سے لوگ باہر بھاگ نکلے اور سپر مارکیٹوں کی شیلفوں سے اشیاء گرنے لگیں۔ سی سی ٹی وی کے مطابق، اس زلزلے میں 65 افراد زخمی ہوئے۔ ایک مقامی رہائشی نے میڈیا کو بتایا کہ ان کا خاندان ابھی سویا ہی تھا کہ ان کا گھر لرز اٹھا، اشیاء گرنے لگیں اور وہ “کپڑے پہننے کا وقت لیے بغیر ہی باہر بھاگ نکلے”۔ خاتون نے مزید بتایا کہ “نیچے اترتے ہوئے میرے پاؤں مسلسل کانپ رہے تھے اور جب میں نیچے پہنچی تو اتنی خوفزدہ تھی کہ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے”۔
بیجنگ نیوز سے بات کرتے ہوئے ایک شخص نے بتایا کہ “انتہائی شدید” زلزلے سے اس کا گھر “چرچرا رہا تھا اور ہل رہا تھا”۔ اس نے کہا، “میں سو رہا تھا جب زلزلہ آیا۔ اب ہر کوئی باہر بھاگ گیا ہے اور اندر جانے سے بہت خوفزدہ ہے۔ میں اس وقت اپنی گاڑی میں سونے کے لیے ایک کھلے علاقے کی طرف جا رہا ہوں”۔ مقامی رہائشی اپنے گھروں کو واپس جانے سے خوفزدہ ہیں اور انہوں نے سڑک کے کنارے خیمے لگا رکھے ہیں یا اپنی گاڑیوں میں رات گزاری ہے۔ سی سی ٹی وی نے امدادی اہلکاروں کو ہیلمٹ پہنے ایک شخص کو لے جاتے ہوئے اور تباہ شدہ عمارتوں پر ٹارچ کی روشنی ڈالتے ہوئے بھی دکھایا، جن میں سے کچھ کی چھتیں گر چکی تھیں۔

