دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر چھ دن تک پھنسے رہنے کے بعد ایک نیپالی گائیڈ، داوا شیرپا، کو ایک صفائی عملے نے زندہ دریافت کر لیا۔ داوا شیرپا نے اس دوران صرف چاکلیٹ کھا کر اور برف چبا کر اپنی جان بچائی۔ ہسپتال سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنی حیرت انگیز بقا کی کہانی سنائی، جو ہمت اور عزم کی ایک مثال ہے۔
داوا شیرپا کو اس وقت دیکھا گیا جب وہ دنیا کی سب سے اونچی چوٹی کی ڈھلوان سے آہستہ آہستہ نیچے کی طرف سرک رہے تھے۔ صفائی کے عملے نے انہیں زندہ دیکھ کر فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کی اور انہیں بحفاظت نیچے لایا گیا۔ ایورسٹ کی انتہائی سرد اور خطرناک صورتحال میں چھ دن تک زندہ رہنا کسی معجزے سے کم نہیں، جہاں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بہت نیچے ہوتا ہے اور آکسیجن کی کمی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
داوا شیرپا نے بتایا کہ ان کے پاس کھانے کے لیے صرف چند چاکلیٹ بارز تھیں اور پیاس بجھانے کے لیے وہ مسلسل برف چباتے رہے۔ یہ سادہ مگر مؤثر حکمت عملی ان کی زندگی بچانے میں کلیدی ثابت ہوئی۔ ان کی بقا کی یہ غیر معمولی کہانی کوہ پیمائی کی دنیا میں ایک نئی مثال قائم کرتی ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی امید اور عزم کے ساتھ زندہ رہا جا سکتا ہے۔







