کینیا میں ایبولا وائرس سے دوسری ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے۔ صحت حکام کے مطابق، 65 سالہ خاتون نے ایبولا کے باعث اپنی جان گنوا دی۔ یہ واقعہ ملک میں ایبولا کے پھیلاؤ کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر رہا ہے، خاص طور پر جب پڑوسی ملک جمہوریہ کانگو میں اس بیماری کا بڑا پھیلاؤ جاری ہے۔
متوفی خاتون پہلے ایبولا متاثرہ شخص کی قریبی رشتہ دار تھیں۔ پہلا متاثرہ شخص ایک مرد تھا جو جمہوریہ کانگو (DRC) سے سفر کر کے کینیا پہنچا تھا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس انسانی رابطے کے ذریعے پھیل رہا ہے، جو حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے کیسز سرحد پار بیماری کے پھیلاؤ کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔
ایبولا ایک مہلک وائرس ہے جس کی شرح اموات بہت زیادہ ہے۔ کینیا کی حکومت نے ایبولا کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا ہے، جس میں متاثرہ علاقوں کی نگرانی، رابطوں کا سراغ لگانا، اور عوام میں آگاہی پیدا کرنا شامل ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) بھی کینیا کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے تکنیکی اور لاجسٹک مدد فراہم کر رہا ہے۔





