اسلام آباد – وفاقی حکومت نے پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد پاکستانیوں کو ایندھن کے اخراجات میں مزید بوجھ کا سامنا ہے۔ منگل سے نافذ العمل ہونے والی نئی قیمتوں کے مطابق، پٹرول کی قیمت میں 1.54 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 379.25 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح، ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2.16 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، اور اب یہ 395.82 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اس ایڈجسٹمنٹ کو بین الاقوامی منڈیوں میں ہونے والی پیش رفت سے منسلک کیا ہے۔ اوگرا کے مطابق، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ ردوبدل عالمی منڈی میں پلاٹس بینچ مارک ریٹس، پریمیم اور دیگر اتفاقی اخراجات میں تبدیلیوں کے باعث کیا گیا ہے۔
ڈیزل کے صارفین کو خاص طور پر پچھلے کچھ عرصے سے مسلسل قیمتوں میں اضافے کا سامنا ہے۔ یہ حالیہ اضافہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک پہلے ہی مہنگائی کی لپیٹ میں ہے اور عام آدمی کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں یہ اضافہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی براہ راست اثر انداز ہوگا، جس سے مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

