اردن نے شام میں ایک مہلک فضائی حملہ کیا ہے، جسے ایک چرچ پر ہونے والے حملے کے جواب میں کی گئی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے، جہاں پہلے ہی سے حالات کشیدہ ہیں۔
شامی صحت حکام کے مطابق، یہ حملہ شام کے ایک گاؤں میں کیا گیا جہاں پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں معصوم خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اس واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس حملے کی تفصیلات ابھی تک مکمل طور پر سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم اردن نے اسے چرچ پر ہونے والے حملے کا براہ راست جواب قرار دیا ہے۔
اردن کی جانب سے شام میں اس طرح کے جوابی حملے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں، خاص طور پر جب اس کی سرحدوں پر یا اس کے مفادات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ شام میں جاری خانہ جنگی اور مختلف مسلح گروہوں کی موجودگی کی وجہ سے یہ علاقہ طویل عرصے سے عدم استحکام کا شکار ہے۔ اس تازہ حملے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور خطے میں امن و امان کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔


