بھارت میں نریندر مودی کی قیادت میں موجودہ حکومت کے دور میں ہندوتوا نظریے کا غلبہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں بھارتی مسلمانوں کی مذہبی آزادی اور ان کے بنیادی حقوق پر گہرے وار کیے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف اقلیتی برادریوں کے لیے تشویشناک ہے بلکہ بھارت کے اس دعوے کو بھی چیلنج کر رہی ہے کہ وہ ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے۔ ہندوتوا کے فروغ نے ملک کے سماجی تانے بانے کو بری طرح متاثر کیا ہے، جہاں اقلیتوں کو مسلسل امتیازی سلوک اور خوف کا سامنا ہے۔
مودی سرکار کے مسلم مخالف اقدامات، جن میں شہریت کے متنازعہ قوانین، حجاب پر پابندیاں، اور عبادت گاہوں سے متعلق تنازعات شامل ہیں، بھارت کے نام نہاد آئینی ڈھانچے اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد مسلمانوں کو معاشرتی اور سیاسی طور پر پسماندہ کرنا اور انہیں دوسرے درجے کا شہری بنانا ہے۔ یہ پالیسیاں نہ صرف مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہیں بلکہ ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو بھی ہوا دے رہی ہیں، جس سے سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
بھارت کا آئین تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، لیکن موجودہ حکومت کی پالیسیاں ان بنیادی اصولوں کو پامال کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف بھارت کے اندرونی استحکام کے لیے خطرہ ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی جمہوری ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مسئلہ اب صرف بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں رہا بلکہ عالمی برادری کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔


