سندھ ہائیکورٹ نے صوبائی پبلک سروس کمیشن (SPSC) کے امتحانی نتائج پر ایک مرتبہ پھر حکم امتناعی جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آیا جس میں SPSC کے امتحانی عمل اور نتائج کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ عدالت عالیہ کے اس اقدام سے ہزاروں امیدواروں کی قسمت ایک بار پھر غیر یقینی کا شکار ہو گئی ہے جو اپنی تقرریوں کے منتظر تھے۔
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر مزید دلائل طلب کیے ہیں۔ جسٹس صلاح الدین پنوہر اور جسٹس عبدالمالک گدی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ SPSC کے حالیہ امتحانات میں بے ضابطگیاں اور میرٹ کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں، جس کے باعث شفافیت کا فقدان ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ SPSC کے امتحانی نتائج کو عدالت میں چیلنج کیا گیا ہو، ماضی میں بھی کمیشن کے طریقہ کار پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
عدالتی حکم امتناعی کے باعث نہ صرف نتائج کا اعلان رک گیا ہے بلکہ سرکاری محکموں میں نئی بھرتیوں کا عمل بھی تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔ امیدواروں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ یہ تاخیر ان کے مستقبل کو متاثر کر رہی ہے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو آئندہ سماعت پر مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کی ہے تاکہ درخواست کی قابل سماعت ہونے کے حوالے سے تمام قانونی نکات پر بحث کی جا سکے۔ اس فیصلے سے سندھ میں سرکاری ملازمتوں کے حصول کے خواہشمند نوجوانوں میں مایوسی پھیل گئی ہے۔

