اسرائیل میں حالیہ انتخابات کے بعد، حکومت سازی کا عمل انتہائی پیچیدہ صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ ملک کے دو بڑے سیاسی بلاکس، جن کی قیادت بالترتیب سابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور سابق چیف آف اسٹاف گادی آئزن کوٹ (یا ان کے بلاک) کر رہے ہیں، واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ صورتحال دونوں رہنماؤں کے لیے اقتدار تک پہنچنے کے راستے میں سنگین رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے، کیونکہ کسی بھی بلاک کے پاس نئی حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ نشستیں موجود نہیں ہیں۔
ابتدائی نتائج اور سیاسی تجزیوں کے مطابق، نیتن یاہو کا دائیں بازو کا اتحاد اور آئزن کوٹ کے مرکزی دھارے کا بلاک، دونوں ہی 120 رکنی کنیست (اسرائیلی پارلیمنٹ) میں 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئی حکومت کی تشکیل کے لیے انہیں عرب جماعتوں کی حمایت یا ان کے ساتھ اتحاد کی ضرورت پڑے گی۔ یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے، کیونکہ عرب جماعتیں روایتی طور پر اسرائیلی حکومتوں کا حصہ نہیں رہی ہیں اور ان کے مطالبات اکثر مرکزی دھارے کی اسرائیلی سیاست سے مختلف ہوتے ہیں۔
یہ صورتحال نیتن یاہو اور آئزن کوٹ دونوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد یا ان کی حمایت حاصل کرنا ان کے اپنے ووٹر بیس کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتا، خاص طور پر دائیں بازو کے ووٹرز کے لیے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی واضح حل نہ نکلا تو اسرائیل کو ایک اور انتخابات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو ملک میں سیاسی عدم استحکام کو مزید بڑھا دے گا۔ یا پھر ایک کمزور اقلیتی حکومت بن سکتی ہے جو زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکے۔ دونوں رہنماؤں کو اقتدار تک پہنچنے کے لیے انتہائی دشوار اور پیچیدہ سیاسی چالوں کا سہارا لینا پڑے گا۔






