مشرقی افریقی ملک تنزانیہ نے دس سال سے زائد عرصے بعد قدرتی گیس کے ایک نئے ذخیرے کی دریافت کا اعلان کیا ہے، جسے ملک کے توانائی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دریافت پر ملک بھر میں جشن کا سماں ہے اور اسے تنزانیہ کی معیشت کے لیے ایک گیم چینجر سمجھا جا رہا ہے۔
تنزانیہ کے وزیر توانائی نے اس دریافت کو “ایک بڑا سنگ میل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی ترقی اور توانائی کی خود کفالت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نئی دریافت نہ صرف ملک کی اندرونی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دے گی بلکہ برآمدات کے ذریعے غیر ملکی زرمبادلہ کمانے کا بھی ایک بڑا ذریعہ بنے گی۔ وزیر توانائی نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ ذخائر ملک کی توانائی کی حفاظت کو مضبوط کریں گے اور صنعتی ترقی کو تیز کریں گے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس دریافت سے تنزانیہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ تنزانیہ پہلے ہی قدرتی گیس کے کچھ ذخائر رکھتا ہے، لیکن ایک دہائی سے زائد عرصے بعد یہ نئی دریافت ملک کے توانائی کے مستقبل کے لیے انتہائی حوصلہ افزا ہے۔ یہ تنزانیہ کو علاقائی توانائی کے ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھرنے میں مدد دے سکتی ہے اور اس کی اقتصادی ترقی کو نئی جہت دے سکتی ہے۔






