ایک تازہ سروے کے مطابق، امریکہ کی شدید ریپبلکن اکثریتی ریاست ساؤتھ کیرولائنا میں سینیٹ کی دوڑ غیر یقینی صورتحال اختیار کر چکی ہے۔ موجودہ ریپبلکن سینیٹر ڈارلین گراہم، جو اس ریاست سے تعلق رکھتی ہیں، اپنے مرحوم بھائی کی کامیابی کو دہرانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال ریپبلکن پارٹی کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ ساؤتھ کیرولائنا کو روایتی طور پر ان کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
ساؤتھ کیرولائنا کو روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، جہاں عام طور پر ریپبلکن امیدواروں کو مضبوط برتری حاصل ہوتی ہے۔ ایسے میں سینیٹر گراہم کا اپنے مرحوم بھائی کی سیاسی وراثت کو برقرار رکھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پارٹی کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔ سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ مقابلہ توقع سے کہیں زیادہ سخت ہو چکا ہے اور کسی بھی امیدوار کو واضح برتری حاصل نہیں ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آئندہ انتخابات میں اس ریاست میں کانٹے کا مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
اسی دوران، ملک بھر میں سینیٹ کی دیگر اہم دوڑوں میں مختلف رجحانات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ فلوریڈا میں ریپبلکن امیدواروں کو برتری حاصل ہے جبکہ مینیسوٹا میں ڈیموکریٹس آگے ہیں۔ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ آئندہ سینیٹ انتخابات میں ملک بھر میں کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے، جہاں ہر ریاست کا نتیجہ مجموعی سیاسی منظرنامے پر گہرا اثر ڈالے گا۔ یہ صورتحال دونوں بڑی جماعتوں کے لیے اہم ہے کیونکہ سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے ہر نشست کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔





