مغربی افریقی ملک گھانا میں گزشتہ 16 ماہ کے دوران جھوٹی خبریں پھیلانے کے الزام میں 14 افراد کی گرفتاریوں نے ملک میں آزادی اظہار رائے کی صورتحال کے بارے میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی مبصرین گھانا میں جمہوری اقدار اور شہری آزادیوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ان گرفتاریوں کو ناقدین کی آواز دبانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر صدر مہاما کی انتظامیہ کے تحت۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ‘جھوٹی خبروں’ کے قوانین کا استعمال اختلاف رائے کو خاموش کرنے اور حکومت پر تنقید کرنے والوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے، جو ایک صحت مند جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔
آزادی اظہار رائے کے حامیوں نے ان کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صحافیوں اور شہریوں کو بغیر کسی خوف کے اپنی رائے کا اظہار کرنے کی اجازت دے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی گھانا کی حکومت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ آزادی اظہار رائے کے بین الاقوامی معیارات کا احترام کرے اور ایسے قوانین کے غلط استعمال سے گریز کرے جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوں۔







