آرمینیا میں آئندہ انتخابات کے پیش نظر سیاسی گہما گہمی عروج پر ہے، جہاں ملک کی موجودہ مغرب نواز حکومت کو روس کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب خطے میں جیو پولیٹیکل کشیدگی بڑھ رہی ہے اور آرمینیا کی خارجہ پالیسی پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
موجودہ وزیراعظم نکول پشینیان تیسری مدت کے لیے اقتدار میں آنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم انہیں اندرونی سطح پر حمایت میں کمی کا سامنا ہے۔ ان کی حکومت کو حالیہ علاقائی تنازعات اور اقتصادی چیلنجز کی وجہ سے عوامی عدم اطمینان کا سامنا ہے، جس سے ان کے انتخابی امکانات متاثر ہو سکتے ہیں۔ پشینیان کی مغرب کی طرف جھکاؤ والی پالیسیاں ملک کے روایتی اتحادی روس کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کا باعث بنی ہیں۔
روس، جو روایتی طور پر آرمینیا کا ایک اہم اتحادی رہا ہے، پشینیان کی مغرب کی طرف جھکاؤ والی پالیسیوں پر ناخوش ہے۔ ماسکو کا یہ بڑھتا ہوا دباؤ آرمینیا کی خارجہ پالیسی کے مستقبل اور اس کے علاقائی تعلقات کے لیے اہم مضمرات رکھتا ہے۔ یہ انتخابات نہ صرف آرمینیا کے اندرونی سیاسی منظر نامے کو تشکیل دیں گے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔





