فرانس میں بڑے پیمانے پر منعقد ہونے والی شاہانہ دعوتیں ایک نئے سیاسی تنازعے کا مرکز بن گئی ہیں۔ یہ دعوتیں، جو ‘لے کینن فرانسیس’ (Le Canon Français) نامی تنظیم کے زیر اہتمام منعقد کی جاتی ہیں، ملک کے انتہا پسند بائیں بازو کی جماعتوں اور کارکنوں میں شدید غم و غصے کا باعث بن رہی ہیں۔
’لے کینن فرانسیس‘ کی جانب سے منعقد کی جانے والی یہ ضیافتیں، جن میں اکثر اشرافیہ اور بااثر شخصیات شرکت کرتی ہیں، ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ملک میں معاشی ناہمواری اور مہنگائی کے مسائل عروج پر ہیں۔ انتہا پسند بائیں بازو کا مؤقف ہے کہ یہ شاہانہ تقریبات عام شہریوں کی مشکلات کا مذاق اڑانے کے مترادف ہیں اور یہ سماجی انصاف کے اصولوں کے منافی ہیں۔
اس ‘ضیافتوں کے رجحان’ نے فرانسیسی سیاست میں ایک گرما گرم بحث چھیڑ دی ہے، جہاں بائیں بازو کی جماعتیں حکومت اور قدامت پسند حلقوں پر تنقید کر رہی ہیں کہ وہ امیروں کے طرز زندگی کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہ مسئلہ آئندہ انتخابات میں بھی ایک اہم ایجنڈا بن سکتا ہے، کیونکہ یہ سماجی طبقاتی تقسیم اور معاشی پالیسیوں پر گہرے سوالات اٹھا رہا ہے۔







