اسرائیل میں ہونے والے عام انتخابات کے جزوی نتائج کے مطابق، سابق وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کا سیاسی بلاک اگرچہ سب سے آگے ہے، تاہم وہ حکومت بنانے کے لیے درکار واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ 99 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد، نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور اس کے اتحادیوں کو 120 نشستوں والی کنیست (اسرائیلی پارلیمنٹ) میں 53 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
حکومت سازی کے لیے 120 نشستوں والی کنیست میں 61 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ ان جزوی نتائج کے بعد، نیتن یاہو کے لیے حکومت بنانا ایک پیچیدہ عمل ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ انہیں مزید اتحادیوں کی تلاش کرنی پڑے گی جو ان کے بلاک میں شامل ہونے پر رضامند ہوں۔ یہ صورتحال اسرائیل کی سیاسی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں، جہاں اکثر مخلوط حکومتیں بنتی رہی ہیں۔
اسرائیل گزشتہ چند سالوں سے سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے، جہاں مختصر عرصے میں کئی عام انتخابات منعقد ہو چکے ہیں۔ یہ تازہ ترین انتخابی نتائج بھی ملک کو ایک اور سیاسی تعطل کی طرف دھکیل سکتے ہیں، جب تک کہ کوئی واضح اتحاد قائم نہ ہو جائے۔ نیتن یاہو کے مخالفین بھی حکومت بنانے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہوں گے، جس سے آئندہ دنوں میں سیاسی جوڑ توڑ میں تیزی آنے کا امکان ہے۔



