امریکی ریاست کیلیفورنیا ایک بار پھر ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے ووٹوں کی بھاری تعداد کے باعث ووٹوں کی گنتی میں غیر معمولی تاخیر کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ صورتحال ماضی کے انتخابات میں بھی دیکھی گئی تھی، جہاں لاکھوں بیلٹ پیپرز کی چھان بین اور گنتی میں کئی دن اور بعض اوقات ہفتے لگ جاتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی سہولت نے اگرچہ ووٹرز کی شرکت میں اضافہ کیا ہے، لیکن اس نے انتخابی عملے کے لیے گنتی کے عمل کو پیچیدہ اور سست بنا دیا ہے۔
انتخابی عمل کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا میں ووٹوں کی گنتی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے نہ صرف مزید وسائل کی ضرورت ہوگی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان قوانین میں بھی کمی لانا پڑے گی جو ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کی وسیع تر رسائی فراہم کرتے ہیں۔ ان قوانین کا مقصد زیادہ سے زیادہ شہریوں کو انتخابی عمل میں شامل کرنا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کو جو ذاتی طور پر پولنگ اسٹیشن نہیں جا سکتے یا جن کے لیے مخصوص اوقات میں ووٹ ڈالنا مشکل ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اگر ریاست گنتی کے عمل کو تیز کرنا چاہتی ہے تو اسے اضافی عملہ، جدید ٹیکنالوجی اور مالی وسائل فراہم کرنے ہوں گے۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی انہیں ان قواعد پر نظر ثانی کرنی ہوگی جو ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی سہولت کو آسان بناتے ہیں یا ووٹنگ کے اوقات کو بڑھاتے ہیں۔ یہ ایک مشکل فیصلہ ہے جس میں انتخابی شفافیت، ووٹر کی سہولت اور نتائج کے بروقت اعلان کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔







